نئی دہلی،18؍اپریل (ایس او نیوز ؍ایجنسی) اشتعال انگیز بھاشن دینے کے لئے بدنام یتی نرسمہا نند جس کو ہریدوار میں نفرت انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں اسے ضمانت پر رہا کیا گیا، پتہ چلا ہے کہ اُس نے اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پر ایک بارپھر ہماچل پردیش کے اونا میں ایک مذہبی اجتماع میں نفرت بھڑکانے والا خطاب کیا ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس جلسہ میں منتظمین نے مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنانے کے لئے ہندوؤں سے ہتھیار اُٹھالینے کی کھلی اپیل کی۔ این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق میٹنگ کے ایک منتظم ستیہ دیو سرسوتی نے بتایاکہ یہ ایک خانگی پروگرام تھا اور اس کیلئے یہاں کی انتظامیہ سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اُنہوں نے کہاکہ ہم قانون میں یقین نہیں رکھتے۔ ہم کسی سے نہیں ڈرتے، یہاں ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ کوئی نفرت انگیز تقریر نہیں کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ یتی نرسمہا نند کو مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل کرنے پر جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اُسے 18فروری کو ضمانت پر رہا کیا گیا۔ اُس کی ضمانت کی شرائط میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ ایسے پروگراموں میں حصہ نہیں لے سکتا۔
جاریہ ماہ کے اوائل میں یتی نرسمہا نند نے دہلی کے براری علاقہ میں نفرت انگیز تقریر کی تھی اور مسلمانوں کیخلاف ہتھیار استعمال کرنے کی اپیل کو دہرایا تھا۔ پولیس نے اُس کیخلاف ایک ایف آئی آر درج کی تھی اور کہا تھا کہ اس نے جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن منتظمین نے اس کے باوجود مہا پنچایت سبھا منعقد کی اور اس مقام پر 700 تا 800 افراد جمع تھے۔
اس مرتبہ اونا میں منعقدہ جلسہ عام میں سادھوی انا پورنا بھی شریک تھیں۔ تمام مقررین نے نفرت بھڑکانے والی تقریریں کیں اور مسلمانوں کیخلاف ہتھیار اُٹھانے کے لئے اُکسایا۔ ہریدوار میں درج کی گئی ایف آئی آر میں سادھوی، انا پورنا کا نام بھی شامل تھا۔ اُس پر اور دیگر مقررین پر مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور عبادت گاہ کی بے حرمتی کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔